Urdu Stories

Urdu Stories Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Stories, Cinema, Karachi.

26/04/2026

Ayeeeeeee Hayeeeeee 😘💋

26/04/2026

Friends mere page mai koi issue hogaya hai kisi ka bhi msg nhi araha hai koi problem hogai messanger mai jis ko bhi bat karni ho bio mai meri id ka link hai wahan msg karna Shukariya....

بھابھی کے ساتھ سہاگ راتبات تھوڑی پرانی ہو چکی ہے لیکن لگتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہے. مے اپنے ممی پاپا اور دادی کے ساتھ رہ...
25/04/2026

بھابھی کے ساتھ سہاگ رات
بات تھوڑی پرانی ہو چکی ہے لیکن لگتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہے. مے اپنے ممی پاپا اور دادی کے ساتھ رہتا ہوں،ایک بار میرے ممی پاپا کو میرے ماما کی بیٹی کی شادی میں لدھیانہ جانا پڑا، ان کے ایک ہی بیٹی ہے اس وجہ سےشادی بھی بڑی دھوم دھام سے ہو رہی تھی. دقت یہ تھی کہ میرے بی ٹیک کے اےگجام چل رہے تھے اس مے جا نہیںسکتا تھا اور میری نانی بہت بزرگ ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکتی تھی وہ سارا دن یا تو عبادت کرتی رہتی ہے یابیڈ پر لیٹی خرراٹی مارتی ہے. لہذا یہ طے ہوا کہ ایک ہفتے کے لئے میرے تاؤ جی کی چھوٹی بہو جن کی شادی صرفگزشتہ ماہ ہی ہوئی تھی، کو بلا دیا جائے. پاپا نے تاؤ جی کو فون کر کے ساری بات بتادي اور کی چھوٹی بھابھیکو بھیجنے کے لیے کہہ دیا. دوسرے دن چھوٹے بھیا بھابھی کو لے کر آ گئے تو ممی پاپا شادی میں چلے گئے، بھیابھی بھابھی کو چھوڑ کر شام کی ٹرین سے گاؤں چلے گئے. اس طرح مے، بھابھی اور دادی ہی اب گھر میں تھے.

بھابھی 5 بہنوں میں سب سے چھوٹی ہے اور اس وقت صرف 1 * سال کی تھی جبکہ میرے بھیا 35 سال کے تھے، اسبیمیل شادی کا سبب بھابھی کے والد کا نہ ہونا اور بہت ہی غریب ہونا تھا ادھر بے روزگار اور نشےڈي ہونے کی وجہسے بھیا کی بھی شادی نہیں ہو رہی تھی لیکن تاؤ جی پولیس میں انسپکٹر تھے لہذا انہوں نے کسی طرح چکر چلاکر یہ شادی کروا لی. بھابھی کیا تھی بالکل اپسرا، اتنی خوبصورت کہ چھونے دو تو میلی ہو جائے. لیکن میرے دلمیں ان کے لئے کوئی بھی غلط خیال نہیں تھا. اس دن جب مے بھیا کو اسٹیشن چھوڑ کر گھر آیا تو میں نے بھابھیکی کمر میں ہاتھ ڈال کر کہا، “اور سناؤ بھابھی، کیسی رہی سہاگرات اور کس طرح کٹی پچھلا مہینہ” بھابھی نےکوئی ذباب نہیں دیا چپ چاپ كچن میں جا کر کھانا بنانے لگی. میں نے بھی کوئی توجہ نہیں دی. رات کو ممی پاپاتھے نہیں سو مے جاکر ایک كواٹر وہسکی کا خاموشی سے لا کر پی گیا اور بھابھی سے بولا، “بھابھی جلدی کھانالگا دو، مجھے نیند آ رہی ہے” بھابھی بولی، “نیند آ رہی ہے یا دارو چڑھ گئی ہے” میں نے آہستہ سے ان سے خاموشرہنے کی رکویسٹ کی اور فوری طور پر کمرے میں جا کر لیٹ گیا. لیکن مے سٹور سے بھابھی کے لئے بستر نکالنا بھولگیا. رات میں جب مینے کروٹ لی تو مجھے لگا کہ کوئی میرے سوا لیٹا ہے، میں نے اٹھ کر لائٹ جلا کر دیکھا توبھابھی میرے بیڈ پر ہی لیٹی تھی. سوتے میں ان کے سینے سے پلو ہٹ گیا تھا اور نیچے سے بھی ساڈی گھٹنوں سےاوپر آ چکی تھی. ان مست چوچی اور ہموار دودیا جاگھو کو دیکھ کر میرا سارا نشہ ہرن ہو گیا. بھابھی کہی جگ نہجائے اس لیے میں نے فورا روشنی بند کر دی لیکن وہ چوچی اور جاگھو کا سین میری حالت پتلی کر رہا تھا. مےآہستہ سے بھابھی کے سوا میں آکر لیٹ گیا لیکن میری نیند اڑ چکی تھی. میں نے آہستہ سے اپنی لںگی اتار کر فیںکدیا اور صرف انڈرویئر میں لیٹ گیا پھر آہستہ سے میں نے ایک ہاتھ میں قانون کی ننگی پیٹ پر اور ایک ٹانگ اس کیہموار جاںگھ پر رکھ لی، جب میں نے دیکھا بھابھی نے کوئی نوٹس نہیں لیا تو میں نے آہستہ سے اپنی ٹانگ اوپرکھسکا کر اپنا ہاتھ ان کی مست چوچی پر رکھ لیا. میرا گھٹنا اب ان کی چوت کو ٹچ کر رہا تھا. یہ پتہ چلنے پر کہانہوں نے ٹائٹس نہیں پہن رکھی ہے، میرا لںڈ ٹائیٹ ہونے لگا اور مجھ پر مستی چھانے لگی میںنے دھیرے سے پھر اپناگھٹنا ان رويےدار چوت پر رکھ کر انکی چوچی کو ہلکے سے دبانا شروع کر دیا. اب میرا مستی سے برا حال تھا اورمیرا لںڈ بری طرح پھنپھنا رہا تھا. میںنے دھیرے سے اپنا جامہ بھی اتار دیا، اب میرا لںڈ پھنپھنا کر کھڑا تھا. میںنےدھیرے سے اپنا ہاتھ ان کی چوت پر رکھ دیا. ان کی چوت پر ہلکے ہلکے رويے سے محسوس ہو رہے تھے، مستی میںغلطی سے میرا ہاتھ نے چوت کو رگڑ دیا، بھابھی نے كنمنا کر میری طرف کروٹ لے کر ایک ٹانگ میرے اوپر رکھ کر میرےگلے میں ایک بازو ڈال لی تو میری سمجھ میں آیا کہ وہ شاید مجھے بھیا سمجھ رہی تھی لہذا اب میری ہمت اور بڑھگئی. اب میرا لںڈ انکی چوت سے ٹکرا رہا تھا میں نے آہستہ سے ان کے بلاؤج کے ہک کھول دئے اور پھر پیچھے سےآہستہ سے ان برا کا ہک بھی کھول دیا

اب ان کی چوچیوں کو میں نے آہستہ آہستہ سہلانا شروع کر دیا. آپ لوگ شاید یقین نہیں کریں گے لیکن اس وقتمجھے جنت کا مزہ آ رہا تھا. اچانک بھابھی نے كنمنا کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی، “مان جاؤ جی! آپ سے ہوتاهواتا تو کچھ ہے نہیں بس اپنا لںڈ میری چوت سے رگڑ کر پانی نکال کر مجھے جلتا چھوڑ کر سو جاؤ گے” تب مجھےاصلیت پتہ چلی کہ بھیا اب تک بھابھی کو چود نہیں پائے ہے، وہ نشہ اتنا زیادہ کرتے ہیں کہ ان کا لںڈ پھر کھڑا ہینہیں ہوتا تھا. اب تو یہ جان کر کہ بھابھی ابھی تک کنواری ہے، میرا لںڈ بالکل چھڑی کی طرح براہ راست تن گیا. میںنے آہستہ سے کمر آگے کرکے لںڈ کا دباب ان کی چوت پر ڈال کر انہیں اپنی بانہوں میں لے لیا. جیسے ہی میرے لںڈ کوانہوں نے محسوس کیا ویسے ہی وہ چونک کر بولی، “ارے بھےيياجي آپ! اے خدا، میں ان کو سمجھ رہی تھی،بھےيياجي یہ سب غلط ہے، کسی کو پتہ چل گیا تو” میں نے بھابھی کو اور کس کر باںہوں میں دبوچ کر اپنے لںڈ کادباب بڑھاتے ہوئے بولا، “کیا بھابھی! گھر میں کوئی نہیں ہے، میرے اور تمہارے سوا یہ بات کسے پتہ چلے گی” بھابھی پر بھی آہستہ آہستہ مستی چھا رہی تھی سو وہ بولی، “ٹھیک ہے بھیا! جیسا تم ٹھیک سمجھو “یہ سن کراب میں نشچنت ہو گیا، میں نے بھابھی سے کہا،” بھابھی! پلیج ذرا یہ کپڑے اتار دو، نگے ہوکر اگر چدائی كراوگي توبہت مزہ آئے گا “بھابھی دونوں ہاتھو سے اپنا چہرہ ڈھك کر بولی،” مجھے شرم آتی ہے، “تب میں نے خود ہی اٹھ کران کی ساڑی اتار کر سارے کپڑے اتار دئے اور نائیٹ بلب بند کر کے ٹیوب لائٹ جلا دی. بھابھی کا ننگا جسم دیکھ کرمیرا لںڈ سیاہ سانپ کی طرح پھپھكارنے لگا، بھابھی کی سنتری جیسی دودیا چچیاں مست ٹائیٹ ہو رہی تھی، انکی گلابی نپل براہ راست تنے مجھے للکار رہے تھے. جیسے ہی میں نے روشنی جلائی، بھابھی بولی، “ہیلو بھیا! پلیج روشنی بند کر دو نا، مجھے بہت شرم آ رہی ہے” “کیا بھابھی! روشنی میں چودنے اور چدوانے کا الگ ہی مزہہوتا ہے” مے ان کے سوا لیٹتا ہوا بولا . “بڑے بیشرم ہو بھےيياجي”

اب میں بغیر کسی خوف کے بے خوف بھابھی کے ہوںٹھو کو چوس رہا تھا اور میرے ہاتھ ان مست سنتری جیسیچوچیو کو مسل رہے تھے ساتھ ہی ساتھ مے آہستہ آہستہ کمر کو آگے پیچھے کرتے ہوئے اپنا لںڈ انکی مست چھوٹےچھوٹے رويےدار چوت پر رگڑ رہا تھا . بھابھی بھی اب فل مستی میں آ چکی تھی لیکن مجھے پتہ تھا کہ ان کی چوتمیں ابھی تک لںڈ پیلا نہیں گیا ہے اس مے بہت تسلی سے کام لے رہا تھا. میں نے اپنے پھنپھناتے ہوئے لنڈ کو دھیرےسے ان کے ہاتھ میں تھما دیا، “یہ ڈنڈا سا کیا پکڑا دیا بھیا ……….. ہیلو مےييا! اتنا بڑا اور موٹا لںڈ ؟؟؟؟؟؟؟ یہ میریچوت میں کس طرح جائے گا، میری تو چوت کی دھججيا اڑ جائیں گی، نہ بھیا نا، پلیج اس آپ مجھے مت چودنا”بھابھی گڈگڈاتے ہوئے بولی. “تم پاگل ہو کیا بھابھی! چوت کی بھی کبھی دھججيا اڈي ہے؟ چوت تو بالکل ربڑجیسی ہوتی ہے، اس میں جیسا بھی لںڈ پےلو وہ اسی کے سائیز میں پھیل جاتی ہے” مے بھابھی کو سمجھاتے ہوئےبولا. “سچی بھیا! دیکھ سکتے ہیں اپنی بھابھی کی چوت کا خیال رکھنا” “آپ بالکل فکر نہ کرو، صرف تھوڑا ساجب پہلی بار لںڈ تمہاری چوت میں جا کر اپنی جگہ بنائے گا تو درد ہوگا بس پھر دو چار بار اندر باہر ہوتے ہی جگہبن جائے گی اور پھر موجا ہی موجا ہوگی میری بھابھی پیارے ”

میں نے کس کر لںڈ کو بھابھی کی کمسن کنواری چوت پر رگڑنا شروع کر دیا، بھابھی بھی اب سسکاریاں لینے لگیںتھی. ان کی چوت پنيلي ہو چکی تھی. “ہیلو ہیلو! بہت مجا آ رہا ہے بھےيياجي، اتنا مجا تو مجھے آج تک نہیں ملا،وه بھیا ……. اااااه میری جان، اب اپنے اس لںڈ کو میری چوت میں پےلو نہ …… او بھیا …… آپ کو صرف چودو اب….. زیادہ سے زیادہ میری چوت کی دھججيا ہی تو اڈےگي تو اڑ جانے دو بس اب تم میری چوت کو آج طریقے سے چوددو میرے بادشاہ “بھابھی کو اس طرح بڈبڑاتے تلاش کر کر مے سمجھ گیا کہ بھابھی اب مکمل طور سے مستی میں آچکی ہے، میں نے ان دونوں کںدھو کو کس کر پکڑ کر ایک جھٹکے میں اپنا آدھا لںڈ انکی چوت میں ٹھاس دیا. “هاااايبھیا! مر گئی …….. پلیج اپنے لںڈ کو باہر نکال لو، میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں” بس بس میری جان تھوڑا سا صبرکرو، میں نے تمہیں سمجھایا تھا نا …… بس تھوڑا سا اور اس کے بعد پھر جنت ہے میری جان “یہ کہہ کر میں نےچچیوں کو رگڑتے ہوئے باقی کا لںڈ بھی بھابھی کی چوت میں پیل دیا.” ہیلو ہیلو بے رحم! تیرے دل میں بالکل بھیرحم نہیں ……. چھوڑ دے مجھے کمینے “بھابھی نے اب درد چھٹپٹ़اتے ہوئے گلیاں بكني شروع کر دی لیکن میں نےبغیر ان چھوڑے لںڈ کو ایک بار باہر نکال کر ایک جھٹکے میں پورا ٹھاس دیا، لںڈ بھابھی کی چوت کو چیرتا ہوا جڑ تکپےوشت ہو گیا “اے مر گئی کمینے! تو نے میری چوت پھاڑ ڈالا …….. خدا کرے تیری بہن

کی چوت پھاڑ کے رکھ دے …….. اب تو چھوڑ دے کمینے “کہتی ہوئی بہو زور زور سے رونے لگی. میں نے بھابھی کوپچكارتے ہوئے انہیں سمجھایا” میری جان، لںڈ کو تمہاری چوت میں جس جگہ بنانی تھی وہ بنا چکا، اب جب مزےکی باری آئی تو تم چللا رہی ہو، میں نے تمہیں کیا کہا تھا؟ “” سچی کہہ رہے ہو بھےيياجي “” بالکل سچی میریجان “یہ کہہ کر میں نے بھابھی کی ٹاںگے اوپر کی طرف اٹھا کر پھیلا دی جس سے چوت بھی تھوڑی پھیل گئی اورلںڈ کو آرام سے پوری آنے جانے کو جگہ بھی مل گئی. اب میں نے بغیر رکے اپنے لںڈ کے دارالحکومت ایکسپریس بھابھیکی چوت کی پٹری پر فل سپیڈ سے دوڑا دی. ہیلو ہائے کرنے والی بھابھی اب کمر اچكا اچكا کر چدوانے میں تعاون کررہی تھی. “ہیلو بھےيياجي! آپ صحیح کہہ رہے تھے، واقعی اب تو جنت کا سا مزہ آ رہا ہے …….. اااه اور چودومیرے بادشاہ ……… پورا لںڈ اب ٹھاس دو میری چوت میں، اور چودو ااااه اااااه او میرے بادشاہ ااااااااه وه باااااس”یہ کہہ کر بھابھی مجھ سے کس کر چپک گئی. مجھے اپنے لںڈ پر گرم گرم لاوا سا بہتا محسوس ہوا، بھابھی مکملطور پر مست ہوکر جھڈ چکی تھی، میری گاڑی بھی اب اسٹیشن کے قریب تھی، میں نے فل سپیڈ میں بھابھی کوچودنا شروع کر دیا، تھوڑی دیر میں میرے لںڈ نے بھی بھابھی کی چوت میں چشمہ چھوڑ دیا، کافی دیر تک ہم دونوںایسے ہی پڑے رہے اور ایک دوسرے کی باںہوں میں ننگی ہی سو گئے … رات میں ایک بار جب آنکھ کھلی تو دیکھا لںڈپھر کھڑا تھا میں نے بھابھی کی چوت میں ڈال کے پھر ایک بار سخت کر بھابھی کو چودا، اس وقت بھابھی نے بھیکمر نچا نچا کر چدائی کا مکمل لطف لیا پھر ہم لوگ ننگی ہی سو گئے، کپڑے پہننے اب ہم دونوں میں سے کسی کوبھی شاید ضرورت نہیں تھے.ختم

24/04/2026

مہمان نوازی
(مکمل کہانی)

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں نیا نیا جوان ہوا تھا۔ ایک بھلے مانس ناصر انکل ہمارے ہمسایہ میں بطور کرایہ دار رہتے تھے۔ ان کے چھ بچے تھے جن میں چار لڑکیاں اور دو لڑکے شامل تھے۔ ہمسایہ ہونے کے ناتے ہمارے ان کے ساتھ بہت اچھے تعلق۔

۔ویسے تو ان کے سارے ہی بچے کیوٹ تھے لیکن یہاں میں جس بچی کا ذکر کر نے جا رہا ہوں ۔۔۔اس کا نام شگفتہ تھا اور وہ اپنے گھر میں سب سے بڑی تھی۔ ہم سب اسے شگفتہ آپی کہتے تھے۔۔شگفتہ آپی کا رنگ گندمی اور ہائیٹ مناسب تھی ۔۔ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ وہ مجھے بھی پڑھایا کرتی تھی۔۔۔۔اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت ۔۔۔۔۔۔۔وہ میرا بہت خیال رکھتی تھیں۔۔ یہاں تک کہ بعض انجان لوگ مجھے ان کا چھوٹا بھائی سمجھتے تھے۔میرا بچپن انہی کے ساتھ گزرا تھا۔

پھر یوں ہوا کہ آپی کی شادی ہو گئی۔ شگفتہ آپی کا خاوند کسی یورپی ملک میں کام کرتا تھا۔۔۔۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ یورپ میں پھدی آرام سے مل جاتی ہے اس لیئے وہ شخص۔۔۔۔۔۔ سالوں بعد گھر آیا کرتا تھا۔۔۔کافی عرصہ بعد جب ان کے شوہر کو وہاں کی نیشنیلٹی مل گئی تو انہوں نے آپی کو بھی سپانسر کر دیا۔ پھر اس سلسلہ میں انہیں سفارت خانے کی جانب سے انٹرویو کی کال موصول ہوئی ۔۔تو وہ (انٹرویو دینے کے لیئے ) اسلام آباد آ گئیں ۔۔۔۔۔

یہاں آ کر ظاہر ہے انہوں نے ہمارے ہاں ہی ٹھہرنا تھا۔۔۔اس طرح ہم لوگ شادی کے بعد ان سے پہلی بار مل رہے تھے۔ چونکہ ان کا سسرال دور کے شہر میں تھا۔۔۔۔اس لیئے ہمارا ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہ رہا۔۔۔ہاں گاؤں میں ان کی ماما کے ساتھ میری امی کا فون پر رابطہ تھا ۔۔۔

اب وہ مجھ سے تقریباً 12/13 سال کے بعد ملیں تھیں۔ سو شگفتہ آپی مجھے دیکھ کر کافی حیران ہوئی ۔۔۔۔ان کی نظروں میں ۔۔۔میں ابھی وہی چھوٹا سا لڑکا تھا۔۔۔۔۔۔چنانچہ جیسے ہی میں ان سے ملا ۔۔۔۔۔تو انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر کہنے لگیں۔۔۔۔۔منا اتنی جلدی جوان بھی ہو گیا؟

ان کی آنکھوں سے خاصی حیرت جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ امی کی طرف مڑیں اور اسی لہجے میں بولیں۔۔۔دیکھیں نا آنٹی ابھی کل کی بات ہے کہ یہ اتنا سا ہوتا تھا۔۔۔ اور اب دیکھیں۔۔۔۔ کتنا بڑا ہو گیا ہے وہ بار بار مجھے عجیب اور حیرت بھری نظروں سے دیکھتی جا رہیں تھیں۔۔

۔اس پر امی انہیں جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ بیٹی تم میں بھی تو بہت فرق آ گیا ہے۔۔دیکھو ناں۔۔۔۔۔۔۔ شادی سے پہلے تم ایک دبلی پتلی سی لڑکی ہوا کرتی تھی اور اب دیکھو کتنی جوان ہو گئی ہو۔۔تمہارا جسمگوشت سے بھر گیا ہے۔۔۔۔۔ تو اس پر آپی بے تکلفی سے بولیں ۔۔۔اچھا آنٹی یہ بتائیں کہ اس وقت میرا جسم ٹھیک تھا ۔۔یا۔۔۔کہ اب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ امی کچھ جواب دیتیں ۔۔۔۔۔۔میں جلدی سے بولا ۔۔۔پہلے آپ صرف پیاری تھیں۔۔۔۔۔ اب بہت پیاری ہو گئیں ہیں۔۔ تو وہ ہنس کر بولیں ۔۔شکریہ بھائی۔ میری بات سن کر ہم سب نے ایک مشترکہ قہقہہ لگایا۔۔۔اورکھانے کھاتے ہوئے پرانی باتیں یاد کرنے لگے۔۔

صبح ہم ایمبیسی گئے اور واپسی پر ہمیں کافی دیر ہو گئی۔ خیر رات کے کھانے کے بعد ان کے شوہر کا فون آ گیا۔ ہم لوگ کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔کچھ دیر بعد جب میں ان کے کمرے میں گیا ۔۔۔۔تو میں نے دیکھا کہ آپی کا ایک ہاتھ ان کی شلوار کے اوپر چوت پر رکھا تھا۔۔۔ وہ اسے مسل رہیں تھی۔۔۔۔ میں بس اتنا سن سکا کہ ۔۔ میرا "موٹو' کیسا ہے؟

سو میں کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔۔۔۔اور چوری چوری ۔۔۔۔۔ایک نظر آپی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کو جو ہاتھ شلوار کے اوپر چوت پر رکھا تھا اب وہ ہاتھ ان کی شلوار کے اندر تھا ۔۔اور وہ باتیں کرتے ہوئے ہاتھ بھی ہلا رہیں تھیں

میں سمجھ گیا کہ وہ اپنی پھدی کو مسل رہی ہیں ۔۔۔کچھ دیر بعد انہوں نے اپنے ہاتھ کو شلوار سے نکالا اور اسےاپنے چھاتیوں پر لے گئیں۔اورپھر اپنے ممے دبانا شروع کر دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ باتیں بھی کرتی جاتیں اور ساتھ ساتھ اپنی چھاتی کو بھی دبائے جا رہیں تھیں۔۔۔۔پھر انہوں نے ایک عجیب کام کیا۔۔۔اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنے کھلے گلے والی قمیض سے ایک چھاتی باہر نکالی ۔۔۔اُف۔ف۔ف۔ف۔ ان کی ننگی چھاتی دیکھ کر میں تو مست ہو گیا۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہ اپنے میاں سے باتیں کرتے ہوئے نپل کو مسلنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔۔۔

۔۔کچھ دیر بعد جب وہ کمرے سے باہر نکلیں ان کا چہرہ انار کی طرح سرخ ہو رہا تھا۔۔ ۔۔اس پر میں ان سے بولا۔۔۔۔ ہممم کیا بات ہے آپی بڑی ریڈ ریڈ ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔ بھائی جان سے کیا باتیں ہوئیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔۔۔چل بے شرم۔۔۔۔۔۔ایسی باتیں نہیں پوچھتے۔۔پھر انہوں نے ایک گہری سانس لی۔۔۔۔ اور کہنے لگیں ۔۔۔ تم نہیں سمجھو گے۔۔۔۔ آپ سمجھائیں گی تو میں سمجھ جاؤں گا۔۔ کہنے لگیں۔۔۔تم ابھی بچے ہو ۔۔۔ اس دوران میں آپی کے بہت قریب ہو گیا تھا ۔۔۔ اور میں نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔ سیکس بخار میں مبتلا ہو گئیں ہیں۔۔چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ ان کے ماتھے پر رکھا ۔۔۔۔ تو ان کا ماتھا بہت گرم ہو رہا تھا۔۔۔ اس لیئے میں جان بوجھ کر بولا۔۔۔ لگتا ہے کہ آپ کو بخار ہو گیا ہے۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔

میں نےاپنے اندر ہمت پیدا کی اور آپی کے گالوں پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بولا۔۔۔۔۔اف آپی آپ کے گال کتنے ہاٹ ہو رہے ہیں۔۔۔۔اور مزید ہمت کر کے ان کے بلکل قریب ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ادھر میرے گالوں پر مساج سے وہ تھوڑا سا کانپیں۔۔۔۔۔پھر غیر محسوس طریقے سے وہ میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔اور چور نگاہوں سے میری ٹانگوں کے بیچ دیکھنے لگیں ۔۔۔۔جہاں پر میرا شیر حملہ کرنے کے لیئے۔۔۔۔۔تیارتھا۔۔۔۔

ہم ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک کھڑے تھے کہ میری گرم سانسیں ان کے لال گالوں سے ٹکرا رہیں تھیں۔۔۔۔۔ادھر جب میں نے آپی کو نیم رضا مند دیکھا۔۔۔۔۔تو پھر میں نے اپنی ٹانگوں کو ان کی نرم رانوں کے ساتھ جوڑ دیا۔۔انہوں نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔۔ تو گویا کہ دونوں طرف آگ۔۔۔۔برابر لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شدت جزبات کی وجہ سے میں سخت بے چین ہو رہا تھا۔۔ایسے ہی چند سیکنڈز گزر گئے۔۔۔۔۔ میرے لیئے یہ چند سیکنڈز صدیوں کے برابر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر میری ہمت جواب دے گئی اور میں شہوت کے ہاتھوں مجبور ہو گیا۔۔۔۔۔چنانچہ میں نے اپنے کانپتے ہونٹ ان کے لال گالوں پر رکھے اور ان کو چوم لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے اس طرح چومنے سے آپی کا بدن ایک دم سے کانپا۔۔۔۔۔۔ پر وہ منہ سے کچھ نہ بولیں۔۔۔ ادھر میں لنڈ ان کی نرم رانوں پر اپنی گرمی دکھا رہا تھا۔۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ٹراؤزر سے باہر آنے کو بے تاب نظر آ رہا تھا۔۔۔ دوسری طرف آپی۔۔۔۔۔۔۔۔ بار بار کن اکھیوں سے لن ہی کی طرف دیکھ رہیں تھیں۔جب میں نے دیکھا کہ آپی کچھ نہیں کہہ رہیں تو میں اور بھی شیر ہو گیا۔۔۔۔میرا حوصلہ بڑھ گیا۔۔۔۔۔ اب میں نے اپنی زبان باہر نکالی اور ان کے لال لال گالوں کو چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔میری اس حرکت سے مری ہوئی آواز میں بولیں ۔۔۔۔۔۔۔ نا کرو یار۔۔ پر میں کہاں رکنے والا تھا۔۔

میں نے آپی کے گالوں کو چاٹنے کے دوران ۔۔ایک ہاتھ ان کی چھاتیوں پر رکھ دیا۔۔۔۔۔اور ان کو پیار کرتا رہا۔۔۔۔جب میں نے اپنا ہاتھ ان کی چھاتی پر رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو انہوں نے ایک نظر میرے ہاتھ اور پھر چھاتی کی طرف دیکھا۔۔۔۔لیکن ٹھنڈا سانس بھرنے کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکیں۔۔۔۔یہ دیکھ کر میرا حوصلہ کچھ اور بڑھ گیا۔۔۔۔ اب کی بار میں نے ان کی چھاتی کو پکڑ کر تھوڑا سا دبا دیا۔۔۔۔لیکن اس پر بھی انہوں نے کوئی رسپانس نہ دیا۔۔۔۔ تو میں نے فائینل راؤنڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔اب میں نے گالوں کو چاٹتے ہوئے ان کا ایک ہاتھ پکڑا ۔۔۔اور اپنے تنے ہوئے لنڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کو ادھر ادھر کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن۔۔۔ میں نے تھوڑا زورلگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو انہوں نے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔یہ دیکھ کر میرا حوصلہ آسمان کو چھونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں نے ان کے گالوں کو چاٹنا بند کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنا منہ ان کے ہونٹوں کی طرف لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اورجب میں اپنے ہونٹوں کو ان کے ہونٹوں پر رکھنے لگا تو ۔۔۔۔اچانک ایسا لگا کہ جیسے وہ نیند سے جاگی ہوں ۔۔۔انہوں نے میری طرف دیکھا اور۔۔۔۔۔۔ کہنے لگیں ۔۔ناں کرو ۔۔۔۔۔۔پلیزززززززز۔۔ایسا ناں کرو۔۔۔۔۔اور مجھے دھکا دے کر کمرے سے باہر نکال دیا۔۔۔

میں نے پھر دروازہ کھولا ۔۔ ۔اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔۔اندر داخل ہو کر دیکھا تو وہ صوفے پر بیٹھیں لمبے لمبے سانس لے رہی تھیں۔۔۔ مجھے کمرے میں دیکھ کر وہ کچھ نہ بولیں۔۔۔۔۔بلکہ اس کے برعکس وہ بڑی ندیدی نظروں سے میرےلن کو دیکھ رہیں تھیں جو کہ اس وقت ٹراؤزر میں تنا کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

شدت جزبات میں۔۔۔۔۔۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا۔۔۔۔۔چنانچہ ۔۔۔ میں سیدھا جا کر ۔۔۔۔۔ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔اور بنا کوئی بات کیئے ٹراؤزر سے لن کو باہر نکال لیا۔۔۔۔اب میرا ننگا لن ان کی آنکھوں کے سامنے کھڑا جھوم رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری اس حرکت پر وہ حیران رہ گئیں۔ وہ میرے لن کو مسلسل گھورے جا رہی تھیں۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں ان کے مزید قریب ہو گیا۔۔۔۔اور لن صاحب کو ۔۔۔۔۔۔ ان کے اتنے قریب لے گیا۔۔۔۔۔کہ ان کے ہونٹوں اور میرے لنڈ کے درمیان ایک آدھ سینٹی میٹر کا فاصلہ رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں لن کے ہیڈ کو ان کے لبوں کے ساتھ ٹچ کرتا۔۔۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی آواز میں بولیں۔۔

منا دروازہ لاک کر دو۔

اور میں دروازے کو لاک کر کے جیسے ہی واپس آیا تو انہوں نے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔اور اسے دباتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی بہت ہاٹ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بھی بخار ہے کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اس پر میں کچھ نہ بولا۔۔۔۔۔لیکن ان کو چہرے کو اپنے لنڈ کی طرف کر دیا۔۔۔۔اس دوران وہ میری طرف دیکھتے ہوئے لن پر ہلکی ہلکی مُٹھ لگا رہیں تھیں۔۔۔۔اس دوران لنڈ سے اچانک ہی مزی کا ایک موٹا سا قطرہ باہر نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔انہوں نے لن کے ہیڈ پر۔۔۔دونوں ہونٹ جوڑ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلکی سی کس کی۔۔۔۔۔۔۔اور جب ہیڈ سے ہونٹ ہٹائے تو میں نے دیکھا۔۔۔۔کہ لن کے ہیڈ پر مزی کے موٹے قطرے کے ساتھ ان کا ڈھیر سارا تھوک لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پھر انہوں نے لن کو اپنی مٹھی میں لیا اور کہنے لگیں۔۔۔ سچ بتا۔۔۔یہ اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟۔۔۔پہلے تو بہت چھوٹا سا تھا۔۔۔ تو میں ہنس کر بولا ۔۔۔یاد ہے آپی سردیوں کی وہ راتیں جب آپ مجھے اپنے ساتھ سلاتی تھیں۔۔۔۔۔اور بعض اوقات میرے اوپر چڑھ کے گھسے بھی مارا کرتی تھیں۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے لن کو ہلکا سا دبایا۔۔۔اور کہنے لگیں ۔۔۔۔۔یاد ہے ۔۔۔۔میری جان سب یاد ہے۔۔۔ اس زمانے میں تو میں نے تم سے بڑے مزے لیئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں ان سے بولا۔۔۔۔۔ ہاتھ میں ہی پکڑے رکھیں گی یا اسے منہ میں بھی ڈالیں گی؟۔۔۔۔۔۔ میری بات سن کو انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر منہ کھول کر ہیڈ کو منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔ پھردھیرے دھیرے باقی لنڈ کو بھی اپنے منہ میں لینے لگیں۔۔۔لیکن چونکہ میرا لنڈ ان کے منہ سے تھوڑا بڑا تھا۔۔۔۔یا ان کو پورا لن منہ میں لینے کا طریقہ نہ آتا تھا۔۔۔۔ اس لیئے ان کےمنہ مین جتنا لن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آ سکا ۔۔۔انہوں نے اس کو لے لیا۔۔۔۔۔اور پھر اسے چوسنا شروع ہو گئیں۔۔وہ بڑی ہی بے تانی سے لن کو چوس رہی تھیں۔۔۔لن چوسنے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے ٹٹوں سے بھی کھیل رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کو بے تابی سے لن چوستے دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بڑی راحت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اتنا مزہ ملا۔۔۔کہ تھوڑی دیر بعد مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں فارغ ہونے ولا ہوں ۔۔ سو میں نے آپی کے منہ سے لنڈ کو باہر نکالنے کی ٹرائی کی ۔۔۔۔۔میرے اس عمل سے وہ سمجھ گئیں کہ میں چھوٹنے والا ہوں۔۔۔۔۔سو انہوں نے لنڈ کو منہ میں ہی رہنے دیا۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے بولیں ۔۔۔آنے دو۔۔۔۔۔اسکے ساتھ ہی انہوں نے منہ لن کو کافی باہر نکال لیا۔۔۔ اب صرف ہیڈ ہی ان کے منہ رہ گیا تھا۔۔۔۔اب وہ لن کے پیچھے والے حصے میں بڑی تیزی سے مٹھ مار رہی تھیں۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر بعد۔۔۔۔۔۔میرا بدن زور سے کانپا۔۔۔۔۔۔۔ان کے ہونٹوں پہ دبا لن کا ہیڈ تھوڑا اور پھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں ۔۔۔اوہ ۔۔۔۔۔۔۔اوہ ۔۔۔۔۔کی آوازیں نکالتا ہوا ان کے منہ میں ڈسچارج ہونا شروع ہو گیا۔۔۔انہوں نے میرے لنڈ سے نکلنے والی گرم منی کو اپنے منہ میں جمع کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔جب میں پوری طرح فار غ ہو گیا۔۔۔۔تو انہوں نے لنڈ کو منہ سے باہر نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ دیر تک اپنے منہ میں پڑی منی کو رول کرتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اچانک انہوں نے ساری منی کو باہر تھوک دیا۔۔۔۔پھر مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیری منی مزے کی تھی۔۔۔۔ تو اس پر میں بولا۔۔۔اگر مزے کی تھی تو باہر کیوں تھوکی؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ شرارت سے۔۔بولیں۔۔۔۔۔۔۔میری مرضی۔۔۔۔۔۔

پھر وہ مجھ کہنے لگیں۔۔۔۔ ایک گلاس پانی پلا سکتے ہو؟۔۔۔۔۔۔۔پانی پینے کے فوراً بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے ایک دفعہ پھر سے میرے نیم مرجھائے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔اور اسے آگے پیچھے کرنے لگیں۔۔

تب میں ان سے بولا۔۔۔۔ کیا خیال ہے آپی ۔۔۔پہلے کپڑے نہ اتار لیں؟۔۔۔۔میری بات سن کر انہوں لن کو ہاتھ سے چھوڑ دیا۔۔۔اور کھڑ ی ہو کر بولیں۔۔ خیال تو اچھا ہے۔۔۔اور اپنے کپڑے اتارنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔اس دوران میں نے بھی اپنے سارے کپڑے اتار دیئے۔۔۔۔میں ان کی خوبصورت چھاتیوں کو دیکھ کر پاگل سا ہو گیا۔اور آگے بڑھ کر ان کی چھاتیوں کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔اور باری باری ان کے نپلز کو چوسنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔

نپلز کو چوستے چوستے میں نے اپنا ایک ہاتھ ان کی پھدی پر لے گیا۔۔۔۔۔ اور درمیان والی انگل کو ان کی گیلی پھدی میں دے دیا۔۔۔۔ان کی چوت اندر سے کافی گرم اور تنگ تھی۔۔ادھر جیسے ہی میری انگلی ان کی چوت میں داخل ہوئی ۔۔تو وہ شہوت بھرے انداز میں بولیں ۔۔۔اُف۔ف۔ف۔جانو۔۔۔کہہ ۔کر مجھ سے چمٹ گئیں۔۔۔۔۔۔اب میں نے ان کا نپل منہ سے نکالا اور پوری دل جمی سے اپنی درمیانی انگلی کو۔۔۔۔۔ان کی چوت میں۔۔۔۔۔۔۔ ان آؤٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔کرنے لگا۔۔۔۔۔اس دوران میرا لن دوبارہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

آپی نے جب محسوس کیا کہ میرا لن پھر سے اکڑ گیا ہے تو ۔۔۔ تو بولیں ۔۔ انگلی نکالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں ان سے بولا ۔۔۔۔وہ کیوں آپی۔؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔اس لیئے کہ چوت انگلی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ تیرا لن مانگ رہی ہے۔۔۔۔اتنا کہہ کر وہ سیدھا بیڈ پر گئیں اور بستر پر لیٹ کر اپنی دونوں ٹانگوں کو اُٹھا دیا۔۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی سے میری پھدی مارو۔۔۔۔۔

اب میں بھی بستر پر چڑھ گیا۔۔۔۔اور گھٹنوں کے بل چلتا ہوا ان کی ٹانگوں کے بیچوں بیچ پہنچ گیا۔۔۔مست آپی نے ابھی تک اپنی دونوں ٹانگیں ۔۔۔ ہوا میں ۔۔۔اٹھائی ہوئیں تھیں۔۔۔۔جیسے ہی میں ان کے قریب پہنچا ۔۔۔انہوں نے جلدی سے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے ہونٹوں پر رکھا۔۔۔۔۔۔اور کہنے لگیں۔۔۔۔۔ گھسہ مار۔۔۔۔۔۔اب میں نے ہلکا سا گھسہ مارا ۔۔تو لن پھسل کر ان کی چکنی پھدی میں داخل ہو گیا۔۔۔ان کی پھدی پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پہلا جھٹکا مارنے کی دیر تھی کہ انہوں نے شہوت بھری چیخ ماری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور چلا کر بولیں ۔۔منا۔۔۔۔۔۔۔چود مجھے۔۔۔اور میں نے ان کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔۔ میرے ہر گھسے کو وہ انجوائے کرتی ۔۔۔۔اور ۔۔سسکیاں بھرتے ہوئے کہتیں۔۔۔ منا ۔۔آپی کا لحاظ نہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذور سے چودنا ۔۔۔۔ تیری آپی لن کو ترسی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے جم کر چودنا۔۔۔۔۔۔۔اسکے ساتھ ساتھ وہ میرے ہپس پر ہاتھ رکھ کر۔۔۔۔۔۔مجھے زورزورسے۔۔آگے پیچھے کرنے کی کوشش بھی کرتیں۔۔اور ساتھ ساتھ چلا کر کہتیں۔۔۔۔۔منا۔۔۔۔۔۔۔۔میری چوت کو پھاڑ دے۔۔۔پھدی کے ٹکڑے ٹکڑے کر۔۔۔۔رکنا نہیں۔۔۔۔چودتے جانا۔۔۔ہاں چود میرے اندر باہر کررر۔رر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔تیرے ہر جھٹکے سے مجھے مزہ مل رہا ہے۔۔کبھی منت بھرے انداز مین کہتیں۔۔۔۔۔۔۔ جان رکنا مت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چودتے رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ساری رات چود ۔۔۔۔اس دوران اچانک مجھے محسوس ہوا کہ جیسے آپی کی پھدی تیزی سے کھل بند ہو رہی ہے۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ آپی کی چیخوں میں بھی شدت آ رہی تھی۔۔۔۔۔اچانک وہ اوپر اٹھیں اور میرے ساتھ چمٹ گئیں ۔۔۔۔جبکہ ان کی پھدی پہلے ہی لن کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔اوراپنی ساری گرمی میرے لن سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔پھر ایسا لگا کہ جیسے لن صاحب چوت کے کھل بند۔۔ہونے کی تاب نہیں لا رہے ۔۔۔۔میرے ساتھ آپی بھی سمجھ گئی کہ میں ڈسچارج ہونے والا ہوں۔۔۔تب وہ چلا کر بولی۔۔۔۔۔منا۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخری جھٹکے فل طاقت سے مار۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھی نکلنے والی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔اوران کی پھدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی ہی تیزی سے کھل بند ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔جھٹکے مارتے ہوئے میں ۔۔اور آپی نے اکھٹے ہی آخری چیخ ماری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک ساتھ ڈسچارج ہونا شروع ہو گئے۔۔۔فارغ ہونے کے بعد میں نے آپی کی طرف دیکھا ۔۔۔ ۔۔تو وہ بڑی شوخی سے بولیں ۔۔۔ بڑے بےشرم ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی مہمان کو چود دیا۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس پر۔۔۔۔۔میں ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔آپ ٹھیک کہہ رہی ہو میڈم۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اک بیمان نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی مہمان کو چود ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورپھر اس رات اس بیمان نے اپنی مہمان کو جی بھر کے چودا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

24/04/2026

Uffffffffffff 😋 😋 ゚viralシypシ゚viralシhtag

21/04/2026

🙈🙈🙈

21/04/2026

صائمہ بنی نوکر کی ننگی رانی
صائمہ ایک شادی شدہ خوبصورت لیکن شرمیلی عورت تھی۔ اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھی مگر شادی کے بعد اس نے گھر داری ، بچوں کی پرورش اور ایک اچھی بیوی بننے کے دوران خود کو یکسر بھلا دیا تھا۔ تین بچوں کی پیدائش کے باوجود صائمہ ایک بھرپور اور سیکسی جسم کی مالک تھی جبکہ اسکی گوری رنگت صائمہ کے سیکسی خدوخال پر سونے پر سہاگہ کا کام کرتی تھی

شادی کے دس سال بعد جب بچے سکول جانے لگے اور شوہر بھی زیادہ وقت دفتر میں گزارنے لگے تو صائمہ کو اپنی سہیلیوں سے رابطے بحال کرنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں صائمہ نے شوہر اور بچوں کی روانگی کے بعد اپنی دوستوں سے ملنے کا سلسلہ شروع کیا۔

ایک دن گھر کی ملازمہ کو گھریلو کام کاج کی ہدایات دینے کے بعد صائمہ اپنی ایک دوست کو ملنے اس کے گھر چلی گئی تو وہاں کا نوکر صائمہ کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر بولا گھر والے دو ہفتے کیلئے باہر گئے ہیں ۔تو صائمہ اٹھتے ہوئے بولی اچھا؟ تو پھر میں چلتی ہوں۔ صائمہ کو اٹھتے دیکھ کر نوکر گھبرا کر بولا جی! کچھ دیر تو بیٹھیں؟ تو صائمہ نے نوٹ کیا کہ نوکر کی نظریں مسلسل اس کے سینے پر تھیں جبکہ نوکر کا لن پورا کھڑا ہوا تھا اور زور زور سے تھرک رہا تھا۔

یہ دیکھ کر صائمہ سمجھ گئی کہ نوکر کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور وہ تنہائی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ تو صائمہ نے سوچا کیوں نہ آج اس نوکر کو تنہائی کا فائدہ اٹھانے دیا جائے اور دیکھا جائے کہ ایک غیر مرد اس کی خوبصورتی سے کتنا متاثر ہوتا ہے؟ تو یہ سوچ کر صائمہ دل ہی دل میں مسکرا دی اور صوفے پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے بولی ٹھیک ہے! تمہارے لئے کچھ دیر ٹھہر جاتی ہوں۔ صائمہ کو مسکراتے دیکھ کر نوکر کی ہمت بڑھ گئی اور وہ بھی مسکرا کر بولا جی شکریہ میڈم! تو صائمہ مسکرا کر بولی اچھا یہ بتاؤ کہ جب تمہیں پتہ تھا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے تو پھر تم مجھے یہاں ڈرائنگ روم میں کیوں لائے؟ صائمہ کی مسکراہٹ دیکھ کر نوکر کی ہمت مزید بڑھ گئی اور وہ دھیرے سے مسکرا کر بولا جی! وہ دراصل آپ بہت خوبصورت ہیں تو آج آپ کو اکیلی دیکھ کر سوچا کہ آج موقع ہے کیوں نا آج تنہائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کی خوبصورتی دیکھ لوں! یہ سنکر صائمہ مسکرا کر بولی کیا گھر بالکل خالی ہے؟ تو نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیا اور بولا جی! آپ اور میں یہاں بالکل اکیلے ہیں۔

نوکر کا جواب سنکر صائمہ اپنے سینے سے دوپٹہ ہٹا کر مسکراتے ہوئے بولی اچھا! تمہیں مجھ میں کیا چیز خوبصورت لگتی ہے؟ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور آگے بڑھ کر صائمہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا جی! آپ کے یہ! تو صائمہ آس پاس دیکھ کر شرماتے ہوئے بولی تم نے میرے یہ کب دیکھے؟ یہ سنکر نوکر سمجھ گیا کہ صائمہ اسے تنہائی کا فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہی ہے تو وہ صائمہ کی قمیض کھینچ کر اوپر کرکے صائمہ کے بریزئر میں قید جوان بریسٹز دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا! میڈم! آج موقع ہے آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنے یہ دکھا دیں۔

تو صائمہ شرما کر آس پاس دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی مجھے شرم آتی ہے! یہ سنکر نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیاُاور اس نے مسکراتے ہوئے صائمہ کی بریزئر کے کپس کے نیچے اپنی انگلیاں ڈال کر صائمہ کی بریزئر بھی کھینچ کر اوپر کردی اور صائمہ کے جوان بریسٹز باہر نکال کر بالکل ننگے کرلئے۔ تو صائمہ شرم سے لال ہوگئی اور اس نے شرماتے ہوئےسر جھکا کر اپنی نظریں جھکا لیں۔ صائمہ کو اس حالت میں شرماتے دیکھ کر نوکر مسکرا کر بولا آپ واقعی بہت خوبصورت عورت ہیں۔ تو صائمہ شرماتے ہوئے سر جھکا کر بولی مجھے بھی تمہیں اپنے یہ دکھانا اچھا لگ رہا ہے۔

یہ سنکر نوکر کی ہمت بڑھ گئی اور اس نے مسکراتے ہوئے صائمہ کی قمیض اوپر کرکے اتار لی اور صائمہ کی بریزئر کھینچ کر اوپر کرکے مسکراتے ہوئے صائمہ کے ننگے نپلز چوم کر بولا آج موقع ہے میڈم! آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنی خوبصورتی دکھا دیں۔ تو صائمہ شرما کر سر ہلا کر بولی تم بہت شیطان ہو! ۔ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے صائمہ کے کپڑے اتارنے لگا تو صائمہ بھی شرما کر مسکراتے ہوئے نوکر سے اپنے کپڑے اتروانے لگی۔ جونہی نوکر نے صائمہ کے سارے کپڑے اتار کر صائمہ کو بالکل ننگا کیا ، صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی حالت میں آگے بڑھ کر نوکر کے گلے لگ گئی اور شرما کر بولی مجھے تمہارے سامنے بالکل ننگی ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہ سنکر نوکر صائمہ کے ننگے ہپس دبا کر مسکرا کر بولا آج موقع ہے! آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنا ننگا ڈانس دکھا دے رانی!

نوکر کی بات سنکر صائمہ مسکرادی اور بولی آج میں تمہاری ہوں جانو! آج تنہائی کا فائدہ اٹھا کر مجھے اپنی بیوی بنا لو! تو نوکر صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر آہستہ سے دبا کر بولا رانی! آج سے تو دو ہفتے کیلئے میری ننگی رانی ہے۔ یہ سنکر صائمہ مسکراتے ہوئے بے اختیار نوکر کے گلے لگ گئی اور نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر شرماتے ہوئے بولی جانو! مجھے تمہارے سامنے بالکل ننگی ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے، آج موقع ہے آج مجھ سے شادی کرکے مجھے اپنی رانی بنا لو۔

نوکر صائمہ کی بات سنکر بےقابو ہوگیا اور صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر زور زور سے دبانے لگا تو صائمہ کے ننگے نپلز سے دودھ کی دھاریں نکلنے لگیں۔ تو نوکر حیران ہو کر بولا رانی! یہ تو دودھ سے بھرے ہوئے ہیں؟ تو صائمہ شرما کر سر جھکا کر بولی جانو! یہ دودھ تمہارے لئے ہی تو ہے۔ اب تو نوکر صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر زور زور سے دبانے لگا اور صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی ہوکر نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر اپنے ننگے بریسٹز سے اپنا دودھ نکلوانے لگی اور زور زور سے سانس لینے لگی۔ نوکر سمجھ گیا کی صائمہ بھرپور جوش میں آگئی ہے تو اس نے صائمہ کو موڑ کر صوفے پر ڈوگی سٹائل میں جھکا دیا اور خود نیچے بیٹھ کر صائمہ کی خوبصورت گلابی پھدی چاٹنے لگا۔ تو صائمہ مزید جوش میں آگئی اور نوکر کا چہرہ پکڑ کر اپنی ننگی پھدی میں گھسا کرآہیں بھرنے لگی۔

صائمہ کی حالت دیکھ کر نوکر کو شرارت سوجھی اور وہ صائمہ کے ہپس کھول کر صائمہ کی گانڈ کا سوراخ چاٹنے لگا تو صائمہ بالکل بےقابو ہوگئی اور زور زور سے آہیں بھرتے ہوئے جوش سے بولی آہ! میرے جانو! اور زور سے چاٹو! آج تم نے جو مزہ دیا ہے وہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں ملا! آج اپنا لن مجھے دے دو! ۔ یہ سنتے ہی نوکر نے اپنی شلوار کھول کر اپنا تنا ہوا لن باہر نکالا اور صائمہ کی گیلی پھدی میں ڈال دیا اور صائمہ کے ننگے ممے پکڑ کر زور زور سے صائمہ کے ساتھ ڈوگی سٹائل میں بھرپور سیکس کرنے لگا۔ صائمہ بھی کھل کر بےشرمی سے نوکر کا پورا لن اپنے اندر لیکر جوش و خروش سے سیکس کرنے لگی۔

نوکر زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور اس نے اپنی منی صائمہ کی پھدی میں ہی نکال دی۔ صائمہ کا جسم بھی پیار کے جذبات میں بےقابو ہو کر کانپنے لگا اور صائمہ بے ساختہ اپنا منہ نوکر کے منہ سے لگا کراسےبےتحاشہ کسنگ کرنے لگی۔ نوکر بھی اپنی زبان صائمہ کے منہ میں ڈال کر اسے زوردار کسنگ کرنے لگا اور اس نے صائمہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنا ننگا لن صائمہ کے ہاتھ میں دے دیا تو صائمہ اس کا مطلب سمجھ گئی۔ اگرچہ صائمہ نے اپنے شوہر کا لن کبھی منہ میں نہیں لیا تھا لیکن آج پیار کے جذبات میں صائمہ نے تمام حدیں پار کرلیں اور بلا جھجک نوکر کا ننگا لن اپنے منہ میں لے کر زور زور سے چوسنے لگی۔ اسے نوکر کے لن سے پیار ہوگیا تھا اور وہ نوکر کا ننگا لن بےتحاشہ چوم رہی تھی۔

صائمہ کے بےتحاشہ چومنے اور چاٹنے سے نوکر کا لن چند ہی لمحوں میں پھر سے تن کر کھڑا ہوگیا اور صائمہ کے خوبصورت چہرے سے ٹکرانے لگا۔ یہ دیکھ کر نوکر نے شرارت بھری نظروں سے صائمہ کی آنکھوں میں جھانکا اور مسکرا کر بولا رانی! اب ایک راؤنڈ پیچھے سے ہو جائے؟ اگرچہ صائمہ نے کبھی اپنے شوہر کا لن پیچھے سے نہیں لیا تھا لیکن نوکر کے پیار میں صائمہ مسکرا کر بولی جانو! آئی لو یو! تم جہاں چاہو اپنا لن ڈال سکتے ہو! آج میں صرف تمہاری ننگی رانی ہوں!

نوکر بھاگ کر اندر سے تیل کی بوتل لے آیا اور صائمہ کی گانڈ میں لگانے لگا۔ پھر اپنے لن پر بھی تیل لگا کر صائمہ کی گانڈ میں اپنا لن ڈالنے لگا۔
صائمہ نوکر کے پیار جذبات سے کپکپا رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ اسی دوران نوکر نے آہستہ آہستہ اپنا پورا لن صائمہ کی گانڈ میں ڈال دیا اور آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا۔ شروع میں صائمہ کو درد محسوس ہوا لیکن کچھ ہی دیر میں اسے مزہ آنے لگا اور وہ نوکر کا بھرپور ساتھ دینے لگی۔ نوکر صائمہ کی ٹائٹ گانڈ کو زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور اس کی منی نکل گئی۔ صائمہ ابھی بھی انجوائے کررہی تھی اور اس نے مڑ کر نوکر کے منہ سے منہ لگا کر اسے زوردار کس کیا اور ساتھ صائمہ کا بھی کلائمکس ہوگیا۔

صائمہ بالکل ننگی حالت میں نوکر کی بانہوں میں صوفے پر لیٹ کر اسے کسنگ کرنے لگی۔ صائمہ کا ننگا پیار نوکر کے لن کو تیسری دفعہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اس مرتبہ صائمہ نے خود ہی نوکر کا ننگا لن اپنے منہ میں لے لیا اور زور زور سے چوسنے لگی ۔ نوکر نے بھی جھک کر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ لئے اور زور زور سے دبانے لگا۔جلد ہی نوکر نے اپنی منی صائمہ کے منہ میں ہی نکال دی اور صائمہ نے مسکرا کر نوکر کی ساری منی پی لی۔

صائمہ اسی طرح بالکل ننگی ہوکر نوکر کی آغوش میں دوپہر تک ننگا پیار کرتی رہی تو اچانک صائمہ کا موبائل فون بجا ۔ دوسری طرف صائمہ کی ملازمہ تھی جو بتا رہی تھی کہ بچے سکول سے آگئے ہیں۔ صائمہ نے اسےبچوں کو کھانا دینے کی ہدایات دیں اور فون بند کر کے نوکر کا لن چوم کر بولی جانو! تمہاری ننگی رانی بنکر تو میں سب کچھ بھول گئی تھی۔ نوکر اپنا لن صائمہ کے ہونٹوں سے لگا کر بولا رانی! تیری اصل جگہ یہاں میرے پاس ہی ہے تو صائمہ نے مسکرا کر نوکر کا تھرکتا ہوا ننگا لن چوم لیا اور بولی جانو! اب مجھے جانا ہوگا، کل صبح ہی پھر تمہاری ننگی رانی بننے کیلئے آجاؤں گی۔ صائمہ نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور وہاں سے نکل گئی۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category