10/02/2026
یہ لیں ایک دل کو چھو لینے والی محبت کی کہانی ❤️
---
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں شہر کی سڑکوں کو دھو رہی تھیں۔ علی بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، ہاتھ میں کتاب اور ذہن میں بے شمار ادھورے خواب۔ وہ ہمیشہ کی طرح خاموش اور اپنی ہی دنیا میں گم رہنے والا لڑکا تھا۔
اچانک تیز ہوا کے جھونکے کے ساتھ ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی اور اس کے برابر میں آ کر رک گئی۔ اس کے ہاتھ میں چھتری تھی جو الٹی ہو چکی تھی، اور بال بارش سے بھیگ کر چہرے سے چپک گئے تھے۔
“اوہ نہیں! آج ہی خراب ہونی تھی؟” وہ ہنس کر بولی۔
علی نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی، جیسے اندھیرے کمرے میں اچانک چراغ جل جائے۔
“اگر آپ چاہیں تو… میری چھتری میں آ سکتی ہیں،” علی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو! ورنہ میں تو مکمل بھیگ جاتی،” وہ مسکرا کر اس کے قریب آ گئی۔
راستہ چھوٹا تھا، مگر باتیں لمبی ہو گئیں۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کا نام حیا ہے، اسے پرانی کتابیں پسند ہیں، اور بارش اس کی کمزوری ہے۔ علی کو حیرت ہوئی — یہ سب تو اسے بھی پسند تھا۔
اس دن کے بعد بارش دونوں کا بہانہ بن گئی۔ کبھی بس اسٹاپ، کبھی لائبریری، کبھی چائے کا چھوٹا سا ڈھابہ۔ باتیں دوستی میں بدلی، اور دوستی خاموش محبت میں۔
ایک دن حیا نے پوچھا،
“علی، تم ہمیشہ کچھ کہنا چاہتے ہو… مگر کہتے نہیں۔ کیوں؟”
علی نے گہرا سانس لیا۔
“کیونکہ ڈرتا ہوں… کہیں تم دور نہ ہو جاؤ۔”
حیا مسکرائی۔
“پاگل، کچھ رشتے کہنے سے نہیں، نبھانے سے مضبوط ہوتے ہیں۔”
بارش پھر سے شروع ہو گئی تھی۔ اس بار علی نے چھتری نہیں کھولی۔ دونوں بھیگتے ہوئے چلتے رہے — جیسے زندگی کی ہر خوشی اور مشکل ساتھ جھیلنے کا خاموش وعدہ کر لیا ہو۔ ☔✨
---
اگر آپ چاہیں تو میں اسی کہانی کا دوسرا حصہ بھی لکھ دوں 😉